نئی دہلی،3/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)غازی آباد کے ویشالی سیکٹر- 2میں لگا ایک اے ٹی ایم شہ سرخیوں میں ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ جمعرات کو یہاں پیسہ نکالنے پہنچے لوگوں پر اے ٹی ایم نے ایک طرح سے نوٹوں کی بارش کر دی۔اس اے ٹی ایم سے کسی نے دو ہزار روپے نکالنا چاہا،تو اسے 10ہزار روپے مل گئے، جبکہ اکاؤنٹ سے دو ہزار ہی کٹے، اسی طرح کسی کو چار ہزار کی جگہ 20000روپے مل گئے، کسی نے 500روپے نکالنے کے لیے بٹن دبایا، تو اسے 2500مل گئے۔لوگ بتا رہے ہیں کہ یہاں بھیڑ اتنی لگ گئی کہ آدھے گھنٹے کے اندر ہی سارا پیسہ ختم ہو گیا۔اس اے ٹی ایم کے برابر میں میڈیکل اسٹور چلانے والے کنال جین بتاتے ہیں کہ ایک شخص نے پہلے چار ہزار روپے نکالنے کی کوشش کی تو اسے 20ہزار مل گئے،لیکن اس کے اکاؤنٹ سے صرف چار ہزار روپے ہی کٹے، تو اس نے تین بار میں تقریبا 60ہزار روپے نکالے۔لوگوں کو جب اے ٹی ایم سے زیادہ سے زیادہ پیسہ نکلنے کی بات معلوم ہوئی،تو وہاں بہت سے لوگ پیسے نکالنے پہنچ گئے۔بات آگ کی طرح ایسی پھیلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے آدھے گھنٹے کے اندر اے ٹی ایم خالی ہوگیا۔جمعہ کو اے ٹی ایم میں پیسے نہیں تھے، لیکن پھر بھی باہر لائن لگی ہوئی تھی، جو پیسے نہیں نکال پائے، وہ دل مسوس کر رہ گئے کہ کاش جمعرات کی شام کو انہیں بھی پتہ چل پاتا،تو وہ بھی مالا مال ہو جاتے۔اس سلسلہ میں جب صحافیوں نے بینک کے منیجر سے رابطہ کیا، تو انہوں نے بتایا کہ فی الحال اس اے ٹی ایم پر تالا لگا دیا گیا ہے، اے ٹی ایم سے وابستہ ماہرین بتاتے ہیں کہ کبھی کبھی 100روپے کے باکس میں غلطی سے دو ہزار روپے رکھے جانے پر اس طرح ہو جاتا ہے، لیکن بینک کا کہنا ہے کہ اگر اے ٹی ایم میں آڈٹ کے دوران زیادہ پیسہ دینے کی بات سامنے آتی ہے،تو سی سی ٹی وی کیمرے کھنگال کر ری کوری کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔حالانکہ جنہیں اس اے ٹی ایم سے زیادہ پیسے ملے ہیں، وہ اب میڈیا کے سامنے آنے سے کترا رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ راجستھان کے ٹونک ضلع سے بھی ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا تھا، جہاں ایک شخص نے 3500روپے نکالنے کے لیے اے ٹی ایم مشین میں کارڈ ڈالا، تو اس کے ہاتھ میں 70ہزار روپے آ گئے تھے۔بینک حکام کے مطابق، 100اور 2000کے نوٹ کے سلاٹ میں تبدیلی سے متعلق تکنیکی دقت کی وجہ سے ایسا ہواہے، نتیجے کے طور پر اے ٹی ایم مشین کا سینسر اس کو نہیں پکڑ پایا۔